top of page

Hazrat Umer Bin Khattab R.A

  • Writer: Šÿęd Mūšãhár
    Šÿęd Mūšãhár
  • Oct 10, 2021
  • 2 min read
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا حُضِرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي الْبَيْتِ رِجَالٌ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلُمَّ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّونَ بَعْدَهُ»، فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غَلَبَ عَلَيْهِ الْوَجَعُ، وَعِنْدَكُمُ الْقُرْآنُ حَسْبُنَا كِتَابُ اللهِ، فَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْبَيْتِ، فَاخْتَصَمُوا فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: قَرِّبُوا يَكْتُبْ لَكُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ مَا قَالَ عُمَرُ، فَلَمَّا أَكْثَرُوا اللَّغْوَ وَالِاخْتِلَافَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُومُوا»، قَالَ عُبَيْدُ اللهِ: فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: «إِنَّ الرَّزِيَّةَ كُلَّ الرَّزِيَّةِ مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ أَنْ يَكْتُبَ لَهُمْ ذَلِكَ الْكِتَابَ مِنِ اخْتِلَافِهِمْ وَلَغَطِهِمْ

 عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ،  انہوں نے کہا :  جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا ،  گھر میں کچھ آدمی موجود تھے ،  ان میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے ،  تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :      میرے پاس آؤ ،  میں تمہیں ایک کتاب  ( تحریر )  لکھ دوں ،  اس کے بعد تم گمراہ نہیں ہو گے ۔      تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا :  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تکلیف اور درد کا غلبہ ہے اور تمہارے پاس قرآن موجود ہے ،  ہمیں اللہ کی کتاب کافی ہے ۔  اس پر گھر کے افراد نے اختلاف کیا اور جھگڑ پڑے ،  ان میں سے کچھ کہہ رہے تھے :   ( لکھنے کا سامان )  قریب لاؤ ،  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں کتاب لکھ دیں تاکہ اس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو ۔  اور ان میں سے کچھ وہی کہہ رہے تھے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا ۔  جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس زیادہ شور اور اختلاف کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :      اٹھ جاؤ ۔
عبیداللہ نے کہا :  حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے :  یقینا مصیبت تھی بڑی مصیبت جو ان کے اختلاف اور شور کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے وہ تحریر لکھنے کے درمیان حائل ہو گئی  ( کہ آپ کتابت نہ کرا سکے۔)

Sahih Muslim#4234

Status: صحیح

www.theislam360.com
 
 
 

Comments


Post: Blog2_Post

Contact

0310-2937024

©2020 by Muslim Shia. Proudly created with Wix.com

bottom of page